دشمن قوتیں بلوچستان میں انتشار چاہتی ہیں، میر جمال رئیسانی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔دشمن قوتیں بلوچستان میں انتشار چاہتی ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، بیرونی سازشیں ملوث ہیں، خواتین کو بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش کارروائیوں پر مجبور کیا گیاکالعدم تنظیموں کی سافٹ امیج سازی مشکوک ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کوئی نیا معاملہ نہیں، اس سے قبل بھی ایسے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں خواتین کو بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش کارروائیوں پر مجبور کیا گیا۔

رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی کا کہنا تھا کہ یہ واقعات ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری لوکیشن فیچر سے یہ بات سامنے آئی کہ بلوچستان کے نام پر چلنے والے متعدد اکاونٹس بیرون ملک سے آپریٹ ہو رہے تھے اور صوبے کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیرونی قوتیں صوبے میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن تنظیموں کا نام اس حوالے سے لیا جا رہا ہے، ان کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے۔

رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی کا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس سلیکٹو نہیں ہوتا، اگر انسانی حقوق کی بات کرنی ہے تو ہر قسم کی شدت پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی تنظیموں کی سافٹ امیج بنانے کی کوششیں ماضی سے جاری ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور ملک میں امن کے لیے ایسی منفی کارروائیوں اور پروپیگنڈے کو ناکام بنانا ضروری ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.