حال نیوز۔۔۔۔۔۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے نائب کپتان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش مسترد کر دی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق اراکین فواد چوہدری، عمران اسماعیل،مولوی محمود اس وقت شاہ محمود قریشی کے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے جب وہ اکیلے تھے۔ جب وہ واپس پہنچے تو سابق پی ٹی آئی رہنما ء جا چکے تھے، ملاقات تقریباً دس منٹ جاری رہی،کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ سینئر وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے 3سابق پارٹی رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی رہائی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش کو مسترد کر دیا۔
ہسپتال میں زیر علاج مخدوم شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی کے سابق تین رہنماؤں نے ان کے کمرے میں جا کر ملاقات کی، مبینہ طور پر انہیں عمران خان کی رہائی مہم میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم شاہ محمود قریشی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا تھا کہ سابق رہنما فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور مولوی محمود اس وقت شاہ محمود قریشی کے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے جب وہ اکیلے تھے۔انہوں نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے اور فوری ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار سے کہا کہ ان کے وکیل کو بلاؤ جو ابھی ایک منٹ پہلے ہی گیا ہے اور اسے بتا کہ کچھ مہمان آگئے ہیں۔
مخدوم شاہ محمود قریشی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب وہ واپس پہنچے تو سابق پی ٹی آئی رہنما جا چکے تھے، ملاقات تقریباً دس منٹ سے کچھ زیادہ جاری رہی اور اس دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔یہ غیر اعلانیہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مبینہ طور پر تینوں میں سے ایک رہنما کو شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما یہ تاثر بھی دینا چاہتے تھے کہ اسد عمر بھی ان کے عمران خان کی رہائی کے لیے رابطہ مہم شروع کرنے کے فیصلے سے متفق ہیں تاہم اسد عمر نے وضاحت کی کہ وہ اس گروپ کا حصہ نہیں ہیں۔
تینوں رہنماؤں کو ہسپتال جانے سے روکا تھا کیونکہ اس سے پارٹی میں تنا ؤپیدا ہوگا اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے خاندان کے لیے بھی تکلیف دہ صورتحال بن سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مہم کا حصہ نہیں ہیں، کچھ سیاستدانوں کا ایک گروپ اسے نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ موقف انہوں نے ٹوئٹ میں بھی واضح کیا۔اسد عمر نے لکھا کہ اگرچہ عمران خان اور دیگر قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے کوئی بھی کوشش خوش آئند ہے، مگر وہ ریلیز عمران خان نامی نئی مہم کا حصہ نہیں، انہیں صرف اخبارات سے معلوم ہوا کہ چند سابق رہنماؤں کی سربراہی میں یہ مہم شروع کی گئی ہے۔