وزیراعلیٰ بلوچستان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کرپشن دہشت گردی سے بڑا چیلنج ہے اور اس کا خاتمہ قومی استحکام کے لئے ناگزیر ہے وزیراعلی نے آئین کے آرٹیکل 5کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر شہری کو ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، لہذا ہر شعبہ زندگی میں ہمیں دیانتداری اور ایمانداری کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے متعلق زمینی حقائق اور دنیا کے سامنے پیش کردہ بیرونی تصور میں واضح فرق ہے ان کا کہنا تھا کہ غیر متوازن ترقی کو نام نہاد آزادی کی تحریکوں کی بنیادی وجہ قرار دینا درست نہیں کیونکہ یہ مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو درپیش ہے۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض فوج یا دہشت گردوں کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے یہ ریاست کے خلاف ایک منظم اور واضح جنگ ہے جس کا مقابلہ ہمیں یکسوئی، عزم اور واضح وژن کے ساتھ کرنا ہوگا، وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسن کے ایشو کو ریاست مخالف عناصر ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں دشمن کی سازشوں کو صرف قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کے ذریعے ناکام بنایا جا سکتا ہے
میر سرفراز بگٹی وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ ریاست سب سے مقدم ہے اور حکومت ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ افسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری، خلوص اور عزم کے ساتھ عوامی خدمت کریں تاکہ ایک خوشحال اور مستحکم بلوچستان کی بنیاد رکھی جا سکے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلی نے تربیت مکمل کرنے واکے افسران میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں یادگاری پودا بھی لگایا۔