پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا ایف بی آر کی جانب سے یکطرفہ ای ایف ایس ترامیم پر شدید ردعمل

اسلام آباد، 2 اگست 2025 — پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (PTC) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے SRO 1359(I)/2025 کے تحت جاری کردہ حالیہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ترامیم کے نفاذ سے ملک کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو شدید دھچکا پہنچے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ شعبہ عالمی دباؤ کا شکار ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی (جس کی سربراہی احسن اقبال صاحب کر رہے تھے) نے برآمدی سہولت اسکیم (EFS) کا نجی شعبے سے مشاورت کے بعد تفصیلی جائزہ لیا تھا۔ تاہم، ان کی سفارشات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ترامیم جاری کر دی گئیں، جس سے صنعت کے بنیادی خدشات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

سب سے نقصان دہ ترمیم یہ ہے کہ روئی، سوت اور گرے کپڑے جیسے بنیادی خام مال کو EFS کے دائرہ کار سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اب برآمد کنندگان کو ان ضروری اشیاء کی درآمد پر محصولات اور سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، حالانکہ یہ کمپنیاں ملکی زرمبادلہ کمانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

پی ٹی سی کے چیئرمین، فواد انور نے کہا، “یہ دراصل برآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ حکومت ایسے وقت میں برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کرے جب ملک کی معیشت استحکام کی تلاش میں ہے۔”

پی ٹی سی نے چیئرمین ایف بی آر، راشد لنگریال، وزیر اعظم آفس، وزیر منصوبہ بندی، وزیر تجارت اور وزیر خزانہ کو باقاعدہ اعتراضات اور پالیسی تجاویز جمع کروا دی ہیں، جن میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں:
• EFS کے تحت خام مال کے استعمال کی مدت کم از کم 18 ماہ برقرار رکھی جائے؛
• نئے EFS صارفین کو ان کی ڈیکلیئر کردہ پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر پرویژنل منظوری دی جائے؛
• بینک گارنٹی کی جگہ انشورنس گارنٹی کی اجازت دی جائے تاکہ لاگت کم ہو؛
• ٹول مینوفیکچرنگ پر 60 دن کی غیر حقیقی پابندیوں کو ختم کیا جائے؛
• غیر ضروری فزیکل سیمپلنگ کے قواعد واپس لیے جائیں؛
• روئی، سوت، اور گرے کپڑے کو EFS میں شامل رکھا جائے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں لیے جا رہے ہیں جب پاکستانی برآمدات کو پہلے ہی امریکہ کی جانب سے عائد کردہ جوابی محصولات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

پی ٹی سی نے حکومت پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے کہ ان ترامیم کے نفاذ کو روکا جائے اور وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نظرثانی کی جائے۔

You might also like

Comments are closed.