امریکہ، افغان شہری جرائم میں ملوث، فہرست تیار، کارروائی کا فیصلہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔امریکہ، افغان شہری جرائم میں ملوث، فہرست تیار، کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا، دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی تصاویر جاری، امیگریشن درخواستیں معطل کر دی گئیں۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 6افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ یہ افراد بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکا میں داخل ہوئے اور بعد میں مختلف پر تشدد واقعات میں ملوث پائے گئے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے متعدد افغان شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد امریکا کی مہمان نوازی کے بدلے تشدد اور جرائم میں ملوث ہوئے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق جن افراد کو ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، انہوں نے یہاں داخلے کے بعد مختلف جرائم کا ارتکاب کیا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری فہرست میں کہاگیاکہ بائیڈن انتظامیہ نے ہمارے معاشروں کو مجرموں اور دہشت گردوں سے بھر دیا، ہزاروں افغان شہریوں کو امریکا لایاگیا، جنہوں نے امریکیوں کو نقصان پہنچایا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، جمال ولی نامی افغان شہری نے ورجینیا میں دو پولیس افسران کو گولی مار کر زخمی کیا، پولیس کی جوابی فائرنگ میں جمال ولی مارا گیا۔جبکہ عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی اوکلاہوما میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے پکڑے گئے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا تھا کہ دونوں 2024میں الیکشن ڈے پر گرفتار ہوئے، ان کیقبضے سے سیکڑوں گولیاں ملیں، دونوں افغان شہری داعش سے وفاداری کا اعلان کرچکے تھے۔محکمے کا کہنا تھا کے مطابق محمد خروین نامی شخص دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔ اسے 2024میں بارڈر پولیس نے حراست میں لیا لیکن بعد میں رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ ایک سال سے زائد عرصہ آزاد گھومتا رہا۔ اسے بعد میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق جاوید احمدی ایک غیر قانونی افغان تارک وطن تھا، جسے 2025میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے سیکنڈ ڈگری حملے کے الزام میں گرفتار کیا۔ حالانکہ اس سے قبل اسے امریکا میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق بحراللہ نوری نامی شخص کو وسکونسن کے فورٹ میک کوئے میں کم عمر بچی سے جنسی فعل کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔محکمے نے بتایا کہ بائیڈن دور میں مونٹانا میں آباد کیے گئے ذبیح اللہ مہمند پر مسولا کے ایک موٹیل میں کم سن لڑکی سے زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔محکمے کے مطابق یہ افراد ان چند مجرموں میں شامل ہیں جنہیں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر جانچ پڑتال کے بعد امریکا آنے کی اجازت دی گئی تھی۔یہ اعلان اس واقعے کے فورا بعد سامنے آیا ہے جب بدھ کے روز ایک افغان مشتبہ شخص رحمان اللہ لکنوال نے واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کو گولی مار دی تھی، جن میں سے 20سالہ سارہ بیکاسٹروم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.