حال نیوز۔۔۔۔اس وقت پوری دنیا میں معاشی بحران نے سر اٹھایا ہوا ہے اسی طرح امریکہ میں بھی بدترین معاشی بحران موجود ہے جس کی وجہ سے امریکی حکومت اپنے اداروں میں کام کرنے والے ورکروں کو تنخواہیں اور مراعات دینے سے قاصر ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹ میں وفاقی اداروں کیلئے ایک بل پیش کیا گیا تھا جو کہ فنڈنگ کے حوالے سے تھا جیسے مسترد کر دیا گیا۔ اس بل کے مسترد ہونے سے امریکہ میں ایک بڑا بحران جنم لینے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شٹ ڈان ماضی کے بجٹ بحرانوں سے طویل ہوسکتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ جو 3لاکھ ملازمین کو نکالنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، انہوں نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کو خبردار کیا ہے کہ شٹ ڈان ناقابلِ واپسی اقدامات کی راہ ہموار کرسکتا ہے، جن میں مزید ملازمتوں اور پروگراموں کی کٹوتیاں شامل ہوں گی۔یہ بحران ایک طویل اور کٹھن جمود کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس سے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی سینیٹ نے منگل کی رات ایک عارضی فنڈنگ بل کو مسترد کردیا جس سے حکومت کو 21نومبر تک چلانے کے لیے فنڈز مہیا کیے جاسکتے تھے، ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی جس کی وجہ ریپبلکنز کا بل میں لاکھوں امریکیوں کے لیے صحت کے فوائد میں توسیع شامل کرنے سے انکار ہے، ریپبلکنز کا مقف ہے کہ یہ مسئلہ الگ سے حل ہونا چاہیئے، حکومتی فنڈنگ کے لیے اس وقت 1.7ٹریلین ڈالر درکار ہیں جو کل 7ٹریلین ڈالر بجٹ کا تقریبا ایک چوتھائی ہے اور زیادہ تر اخراجات صحت، پنشن پروگراموں اور 37.5ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے پر سود کی ادائیگی میں جاتے ہیں۔
یہ 1981 کے بعد 15واں شٹ ڈان ہے جس کے دوران مختلف ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر کی روزگار رپورٹ جاری نہیں ہوسکے گی، فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو گی، سائنسی تحقیق معطل ہو جائے گی، امریکی فوجیوں کی تنخواہیں روک لی جائیں گی اور 7.5لاکھ وفاقی ملازمین کو فارغ کیا جائے گا جس سے روزانہ 400ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤ س کے حکام نے دھمکی دی ہے کہ ڈیموکریٹس کو سرکاری پروگرامز اور تنخواہوں میں مزید کٹوتیوں کے ذریعے سزا دی جائے گی، اس اعلان کے بعد وال اسٹریٹ فیوچرز نیچے آگئے، سونے کی قیمت نے ریکارڈ بنایا اور ایشیائی مارکیٹس میں عدم استحکام دیکھنے میں آیا، ڈالر بھی بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا۔