حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ہمارا معاشرہ شوبز سے منسلک لڑکیوں کو قبول نہیں کرتا، شوبز سے وابستہ لڑکیوں کے حوالے سے تنگ نظری عروج پر ہے، ایک شخص سے تعلقا ت تھے لیکن اداکارہ ہونے کی وجہ سے شادی نہ ہو سکی۔ اداکارہ قدسیہ علی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں شوبز سے وابستہ لڑکیوں کے حوالے سے تنگ نظری عروج پر ہے اور لوگ اس شعبے کی لڑکیوں کو خوش دلی سے قبول نہیں کرتے،پاکستانی مرد اداکاراؤں کی تعریف کرتے ہیں لیکن اپناتے نہیں۔
اداکارہ قدسیہ علی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کے ساتھ حال ہی میں ایک حادثہ ہوا، ان کے ایک شخص کے ساتھ تعلقات تھے لیکن پھر وہ تعلقات نہ رہے،اداکارہ نے بتایا کہ بعد میں انہیں پتا چلا کہ ان کی اور مذکورہ شخص کی شادی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اداکارہ تھیں۔انہیں شادی کرنے کے لیے اداکاری چھوڑنی پڑتی اس لیے انہوں نے تعلقات ختم کیے اور یہ کہ اب بھی ایسا سمجھا جاتا ہے اور مرد اداکارہ سے شادی کرنے سے کتراتے ہیں۔
اداکارہ قدسیہ علی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں لوگ لڑکیوں کوسکرین پر تو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لئے سوچ کا معیار الگ رکھا ہوا ہے۔شوبز سے وابستہ لڑکیوں کے مقابلے میں مرد اداکاروں کو اچھے سے اچھے اور بڑے گھروں کے رشتے بھی آسانی سے مل جاتے ہیں جو ہمارے معاشرے کا دوغلا معیار ہے۔انہوں کا کہنا تھا کہ خود مختار اور آزاد خواتین کو ایک قیمت چکانا پڑتی ہے حالانکہ اب 2025ہوچکا ہے لیکن حالات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
قدسیہ علی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں شوبز سے وابستہ لڑکیوں کے حوالے سے تنگ نظری عروج پر ہے اور لوگ اس شعبے کی لڑکیوں کو خوش دلی سے قبول نہیں کرتے،پاکستانی مرد اداکاراؤں کی تعریف کرتے ہیں لیکن اپناتے نہیں۔خود مختار اور آزاد خاتون کے حوالے سے سوچا جاتا ہے کہ وہ کسی کے قابو میں نہیں آئے گی، وہ کسی کے آگے نہیں جھکے گی۔شوبز سے وابستہ لڑکیوں کے مقابلے میں مرد اداکاروں کو اچھے سے اچھے اور بڑے گھروں کے رشتے بھی آسانی سے مل جاتے ہیں جو ہمارے معاشرے کا دوغلا معیار ہے۔