حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ملکی معیشت تباہ، کرپشن اپنے عروج پر ہے، آئی ایم ایف کی پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے رپورٹ لمحہ فکریہ ہے، حکومت نے کرپشن کو ختم کیا نہ ہی ملکی معیشت کے حالات بہتر کئے، قانون و آئین کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا، ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کو احساس ہے کہ اس کا ملک پر کیا اثر پڑے گا؟ ان ترامیم میں ملک اور عوام کا فائدہ بتایا جائے،، ملک میں عدل کا انصاف کا قانون کا نظام نہیں ہوگا تو ملکی معاشی طور پر کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔ عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اورسابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے رپورٹ لمحہ فکریہ ہے،حکومت نے کرپشن کو ختم کیا نہ ہی ملکی معیشت کے حالات بہتر کئے، قانون و آئین کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالے سے آئی ایم ایف کی رپورٹ میں صرف وفاقی حکومت کے معاملات شامل ہیں اگر صوبائی حکومتوں کی صورتحال اس رپورٹ میں رکھی جاتی تو اس سے بہت زیادہ کرپشن سامنے آتی، ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کو احساس ہے کہ اس کا ملک پر کیا اثر پڑے گا؟ ان ترامیم میں ملک اور عوام کا فائدہ بتایا جائے، اشرافیہ پالیسی کو کنٹرول کرتی ہے اور اس سے کرپشن کی جاتی ہے،ہیومن ڈیویلپمنٹ میں ہم 168ویں نمبر پر ہیں،ریفارمز نہیں کریں گے تو ملک میں گروتھ نہیں ہوگی، ملک میں عدل کا انصاف کا قانون کا نظام نہیں ہوگا تو ملکی معاشی طور پر کبھی ترقی نہیں کرسکے گا،رپورٹ میں عدلیہ پر بھی بہت سارے سوال اٹھائے گئے ہیں،ہمیں خام خیالی ہے کہ ملک بہت ترقی کررہا ہے یہ ایک خام خیال اور خوش فہمی ہے شاہد خاقان عباسی کا سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر ظفرمرزا کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے آئی ایم یف نے واضح کیا ہے کہ حکومت عوام کو ترقی کے حوالے سے جو اعداد و شماردے رہی ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہیں۔شاہد کاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 2019 کا چینی کا جو سکینڈل آیا تھا بدقسمتی سے حکومت نے اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا بدقسمتی سے وہی انداز دہرایا جارہا ہے،آج بھی ایک ارب روپیہ یومیہ عوام کی جیبوں سے چینی مالکان کی جیبوں میں جارہا ہے، چینی کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے، جو ادارہ کرپشن پر نظر رکھتا ہے وہ بار بار کرپشن کی نشاندہی کررہا ہے تاہم حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک میں تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں تمام ادارے کرپشن روکنے میں ناکام رہے ہیں،نیب کی اپنی رپورٹ میں 5300ارب ریکوری کی بات کی گی تھی جو ابھی تک ریکوری نہیں ہوسکی،ہر شعبے میں آج ناکامی ہے آج آئی ایم ایف واضح طور پر کہہ رہا ہے جب تک کرپشن کو ختم نہیں کیا جاتا ملکی ترقی ناممکن ہے، ہمیں خود احساس ہونا چاہیے یہ ملک ہمارا ہے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں، اس حکومت کو چھٹا سال جارہا ہے لیکن وہی پرانی روش ہے کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے قانون کی انصاف کی حکمرانی میڈیا کی آزادی نہیں ہے جس سے ملکی ترقی کا پہیہ جام ہے، یہ ملک جتنا حکومت ہے اتنا ہی اپوزیشن کا بھی ہے، ملک میں جمہوریت اور رول آف لاء کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بات چیت اور ڈائیلاگ ہی مسلے کا واحد حل ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، ہمیں جماعتوں اور اقتدار کے لالچ سے نکل کر ملک کی مضبوطی و استحکام کیلئے آگے بڑھنا ہوگا، ہر آئینی مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہوگا،ماضی میں الیکشن چوری ہوتے تھے تو آج نہیں ہونا چاہئیں، احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ایک سوال پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف سیاسی لیڈر ہیں، ان کی مرضی جو بیان دیں، نواز شریف حکومت میں ہیں، احتساب ان کے ہاتھ میں ہے،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچ اور رویہ بدلنے کی ضرورت ہے، ہم صرف اپنی خوشی اور مفاد کی بات کرتے ہیں اور یہ بات کرتے ہیں کہ مزید کیسے طاقت حاصل کی جائے۔