کراچی:14اگست 1947 کو پاکستان کا نام دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مسلم ریاست کی حیثیت سے سامنے آیا۔یہ سب کچھ قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارے آباؤ اجداد کی فکر اور سوچ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے جشن ازادی کی تقریب سے کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم جشن آزادی کی تیاریاں پر جوش انداز میں کر رہی ہے۔آزادی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔مسلمانوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا اور آزادی کے اصل مقصد کو سمجھا۔آزادی کے لیے کے لیے آباؤ اجداد کی دی جانے والی قربانیوں کا ہم احسان نہیں چکا سکتے ہیں،بلال سلیم قادری کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ہم پر قرض ہے ان ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کا جنہوں نے اپنی عزت و حرمت اس وطن عزیز پر قربان کر دی،قرض ہے ان بزرگ والدین کا جنہوں نے اپنے جواں سالہ بیٹوں کو وطن پر نثار کر دیا،قرض ہے اْن لوگوں کا جنہوں نے ہجرت کے لیے آگ و خون کے سمندر پار کیے، اپنے گھر بار،مال مویشی اور کاروبار تک کو ہمارے مستقبل پر نچھاور کر دیا،اپنے عزیزواقارب، رشتہ داروں اورآباؤ اجداد کی قبروں تک کو چھوڑ کر پاکستان چلے آئے۔پوری قوم بانی پاکستان اور حصولِ مملکت کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ہم مقروض ہیں بانی پاکستان اور اپنے آباؤ اجداد کے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو دنیا میں ایک الگ شناخت دی۔اب ہمارا فرض ہے کہ آزادی کی شکل میں ملنے والے اس تحفے کی حفاظت کریں اور اپنے ملک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ہمیں اپنی نئی نسل کو بار بار اس بات کی نشاندہی کرتے رہنا چاہیے کہ اس آزادی کے لیے کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔تاکہ وہ بھی اپنے آنے والی نسلوں تاکہ اس پیغام کو پہنچاتے رہیں اور جشن آزادی پرجوش انداز میں مناتے رہیں۔
مزید پڑھیں
Comments are closed.