خیبر : طورخم بارڈر پر این ایل سی عذاب بن گیا ہے. مقامی مزدوروں کو بے روزگار کرنا، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس سے روزگار چھیننا و قومی مفادات پر قبضہ ہرگز قابل قبول نہیں. قوم کا طورخم ٹرمینل معاہدہ ایف بی آر کے ساتھ ہوا تھا جن پر تعمیراتی کنٹریکٹر این ایل سی ایک طرف قومی آراضی پر قبضہ جما رکھا ہے دوسری جانب روزگار کا جنازہ نکالا ہے. مجیب شینواری و قومی مشران کی پریس کانفرنس سے خطاب
ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں آل طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری نے قاری نظیم گل، ایمل شینواری، اور قومی مشران خیال محمد، ملک طاہر، سعد اللہ، تواب سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این ایل سی طورخم بارڈر پر عذاب بن چکی ہے۔ مقامی مزدوروں کو بے روزگار کرنا، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کا روزگار چھیننا اور قومی مفادات پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا طورخم ٹرمینل قوم شینواری خوگاخیل کی ملکیت ہے اور این ایل سی کے ساتھ قوم کا معاہدہ ادھورا ہے، مگر این ایل سی جیسے پرائیویٹ کنٹریکٹر نے قومی اراضی پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ ادارہ کھلے عام مقامی کاروبار کا گلا گھونٹ رہا ہے اور اپنے کاروباری مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کاروباری دہشتگردی کر رہا ہے مجیب شینواری نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمینل کا مقصد مقامی روزگار اور ترقی تھا، لیکن این ایل سی نے یہاں روزگار کا جنازہ نکال دیا۔ قومی معاہدے کی 9 رکنی کمیٹی کے 4 ارکان نے دستخط نہیں کیے تھے لیکن این ایل سی اس اختلاف کو ہوا دے کر قوم کو کمزور کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ اب ٹی آئی آر سسٹم کے ذریعے کسٹم کلیئرنس پر بھی قبضہ کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قبول نہیں
مجیب شینواری نے اعلان کیا کہ کل طورخم میں پرامن احتجاج کیا جائے گا اور اگر این ایل سی نے اپنی روح نہ بدلی تو ہم دفاتر سے نکل کے سڑکوں پر آئیں گے اور غیر معینہ مدت تک دھرنا دیں گے
Comments are closed.