گورنربلوچستان سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینئر لیڈرز آف بزنس کمیونٹی کی ملاقات

اسلام آباد 6 اگست: آج بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نجات دلا کر معاشی استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جانے کی کلید ہمارے تاجروں اور صنعت کاروں کے پاس ہے۔ گورنمنٹ اور بزنس کمیونٹی کے درمیان مشترکہ کاوشیں اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے پاکستان کیلئے ایک روشن اقتصادی مستقبل تشکیل دیا جا سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اپنے تمام تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری حضرات کو پڑوسی ممالک کی تجارتی منڈیوں تک رسائی دیں، سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں، ٹیکسوں میں رعایت فراہم کریں اور زیادہ سے زیادہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راشد ہمایوں کی قیادت میں چیئرمین CIBEO پاکستان اور سینئر لیڈر آف بزنس کمیونٹی پر مشتمل وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. ملاقات کے دوران ممتاز کاروباری شخصیات اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آئی سی سی آئی کے ممبران میں شفیق سواتی، ظفر شہزاد مرزا، طاہر رشید تنولی، راجہ اشفاق عباسی، انجینئر۔ پرویز اسلم، ذوالفقار حسین، وقار احمد وڑائچ، خرم شہزاد، جناب راجہ اشفاق عباسی، ڈاکٹر یاسر بخاری، ڈاکٹر ابوالحسن، راحیل ملک، چوہدری اسد اللہ اور تنویر احمد موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم وژنری معاشی پالیسیوں، باہمی تعاون کے جذبے اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ساتھ ہم پاکستان کی معیشت کو بحال کر سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے معاشی انقلاب برپا کر سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ بلوچستان، قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات کا مالا مال صوبہ ہے، یہاں مختلف شعبوں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع دستیاب ہے اور بلوچستان ہی پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ برادر اسلامی پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں. باڈر ٹریڈز اور باڈر مارکیٹس کے قیام سے ہم اپنے صوبے میں بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں. واضح رہے کہ بلوچستان ملک دیگر صوبوں بالخصوص پنجاب اور سندھ کے کارخانوں اور صعنتوں کو خام مال فراہم کا معتبر وسیلہ ہے. انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت تمام قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے

You might also like

Comments are closed.