پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں موجود کشمیری کل یوم استحصال کشمیر کے طور پر منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے طاقت کے ذریعے اس دن مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، جسے کشمیریوں نے مسترد کر دیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں سے ہزاروں کشمیری شہید و زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام کی طرح، عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی افواج کے بڑھتے ہوئے مظالم کا نوٹس لیا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ۶ سال قبل بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اٹھائے، اور وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے اور سیاسی منظر نامے کو بدلنے کے لئے مسلسل مہم چلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور بھارت کی داخلی قانون سازی اور عدالتی فیصلے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کو دبا نہیں سکتے۔
Comments are closed.