کوئٹہ4 اگست۔ وزیر اعلی بلوچستان کے مشیر برائےماحولیات وموسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ پانچ اگست کے یوم سیاہ پر بھار ت نے کشمیر کو ایک عقوبت خانے میں تبدیل کردیا۔عالمی میڈیا کشمیر کو ایک وسیع جیل خانے کا نام دیتا ہے۔ جہاں لاک ڈا?ن کرکے 90لاکھ کشمیری مسلمانوں کو گھروں میں بندکردیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ ظالمانہ اقدام اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے عالمی چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جس میں ہرشہری کو نقل وحرکت کی آزادی دی گئی، اظہارِ رائے کی آزادی دی گئی ہے، اجتماع کی آزادی دی گئی ہے، مذہبی عبادات کو بجالانے کی آزادی دی گئی ہے اور بیرونی دنیا سے رابطہ برقرار رکھنے کی آزادی دی گئی ہے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ بھارت نے 5اگست کے ایک اوچھے وار سے ان تمام شہری حقوق کاقتل عام کرڈالا،اس نے لینڈلائن،موبائل فون اور وائی فائی کی انٹرنیٹ سروسز معطل کررکھی ہیں،جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری اپنی ابتلائ سے کسی کو آگاہ بھی نہیں کرسکتے۔یہ نکتہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب کشمیری عوام کسی سے رابطہ ہی نہیں کرسکتے،تو پھر انہیں کرونا کیسے لاحق ہواتھا۔ نسیم الرحمن ملاخیل نے کہا کہ کسی کشمیری کو ہسپتال جانے اور کہیں سے علاج معالجہ کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ کشمیر کے ہسپتالوں پر،کشمیرکی مساجد پر، کشمیرکے اسکولوں، کالجوں، بازاروں اورکھیت کھلیانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر گلی میں ایک بھارتی پہرے دار جدیدترین اسلحہ لہرائے کھڑاہے۔کوئی آٹھ سال کا بچہ بھی گھر سے باہر قدم رکھے یا 80سالہ بوڑھا کہیں سے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرنے باہر نکلے تو انہیں گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ بھارتی فوج اب تک 30 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کوسرچ آپریشن کے بہانے گھروں سے اٹھاکر لاپتہ کرچکی ہے۔ جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو شہید کردیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کو حاصل کرکے رہیں گے۔
Comments are closed.