بلوچستان پولیس میں دہشت گردی، منظم جرائم اور عوامی تحفظ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ، 03 اگست
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معظم جاہ انصاری جیسے فرض شناس اور بہادر افسران کسی بھی ادارے اور صوبے کا فخر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان پولیس کو نہ صرف قابل فخر قیادت دی بلکہ اپنی پیشہ ورانہ دیانت، وژن اور قربانی کے جذبے سے ادارے میں ایک نئی روح پھونکی ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “یہ کہنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کہ الوداع، خاص طور پر ایک ایسے شخص کو جو بلوچستان کا بیٹا ہو، جس نے اس سرزمین کی حفاظت کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہو، اور جہاں جہاں بھی خدمات انجام دیں، وہاں بلوچستان اور اس کے عوام کی عزت و تکریم میں اضافہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اور معظم جاہ انصاری کا رشتہ تقریباً پندرہ برس پر محیط ہے، اور اس طویل عرصے میں ان کے کردار، عزم، قیادت اور خلوص کو نہایت قریب سے دیکھا۔ “دہشت گردی کے نازک ادوار میں، خاص طور پر وکلا کی شہادت کے سانحے میں، ان کا کردار مثالی رہا۔ اُس رات کی یاد آج بھی دل میں تازہ ہے جب میں ہوم منسٹر تھا اور کوئٹہ پر خوف کی فضا چھائی ہوئی تھی، مگر معظم جاہ انصاری جیسے افسران نے استقامت اور قیادت کا مظاہرہ کیا انہوں نے کہا کہ آئی جی کے طور پر ان کی تعیناتی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک اعتماد تھا ایک ایسا اعتماد جو ذاتی مشاہدے، تجربے اور یقین پر مبنی تھا۔ میں نے ان سے کبھی اجازت نہیں لی، نہ ہی آمادگی پوچھی۔ میں نے صرف ایک فقرہ کہا: ‘See you in Quetta tomorrow’۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ اس فرض سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ نو ماہ میں ہمارا تعلق ایک مثالی ورکنگ ریلیشن شپ رہا، کسی ٹرانسفر، پوسٹنگ یا پالیسی پر کبھی اختلاف نہیں ہوا ان کی قیادت میں بلوچستان پولیس کے مختلف شعبوں سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو، اے ٹی ایف، ٹریفک پولیس، سی آئی اے نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بلوچستان پولیس میں دہشت گردی، منظم جرائم اور عوامی تحفظ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، اور یہ صرف جذبے اور ارادے کا سوال ہے۔ جب نیت اور ارادہ ہو، تو نہ وسائل کی کمی رکاوٹ بنتی ہے، نہ دشمن کی طاقت، اور میں نے یہ پیشن بلوچستان پولیس کے اندر دیکھا ہے اس موقع پر ریٹائر ہونے والے آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنی فورس کو یہ سکھانے کی کوشش کی کہ جو رینک، اختیار یا منصب انہیں ملا ہے وہ دراصل ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہے۔ یہ اختیار نہیں بلکہ جوابدہی کا مظہر ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہی پیغام دیا کہ تمام افسران، رینکس، اور لیڈی پولیس اہلکار، جو اسی مٹی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، ان میں بے پناہ صلاحیت ہے ضرورت صرف تربیت، رہنمائی اور اعتماد کی ہے نئے آنے والے اپنے جانشین پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بلوچستان پولیس کے نئے آنے والے سربراہ مجھ سے بہتر، زیادہ متحرک اور باصلاحیت ہوں گے اور وہ دلیری کے ساتھ بلوچستان پولیس کی قیادت کریں گے تاکہ صوبے کو اقوام عالم میں عزت و وقار حاصل ہو انہوں نے کہا کہ میں آج دل مطمئن اور سر فخر سے بلند کر کے بلوچستان پولیس کو الوداع کہہ رہا ہوں مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔ اگر کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی تو وہ میری تھی، میری ٹیم کی نہیں۔ کامیابیاں آپ سب کی بدولت تھیں، اور اگر کہیں کمی محسوس ہوئی، تو اس کا سبب میری ذات ہو سکتی ہے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ بلوچستان میں امن ہو، ترقی ہو، روزگار ہو، اور کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ وہ کس قوم، زبان یا صوبے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر شہری کو ہر علاقہ ایسا محفوظ محسوس ہو جیسے وہ اپنے گھر میں ہو تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے معظم جاہ انصاری کو شاندار خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا، اور بلوچستان پولیس کے افسران و اہلکاران کو ان کے مشن کو جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ “یہ صرف ایک ریٹائرمنٹ نہیں، بلکہ ایک قابلِ فخر ورثے کی منتقلی ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری اور سلیم احمد لہڑی کو سوئینر اور یادگار شیلڈ دی

You might also like

Comments are closed.