قومی میڈیا بلوچستان کے اصل چہرے کو خود دیکھے، سمجھے اور اسے ملک بھر میں اجاگر کرے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کراچی، یکم اگست 2025
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صحافت انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہی ہے جہاں ایک جانب زمینی حقائق موجود ہیں تو دوسری جانب بلوچستان سے متعلق غلط تصورات بھی میڈیا میں جگہ پاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ اس بات کا خواہاں رہا ہوں کہ قومی میڈیا بلوچستان کے اصل چہرے کو خود دیکھے، سمجھے اور اسے ملک بھر میں اجاگر کرے وہ جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر فیڈرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر صحافی اور صحافتی تنظیموں کے قائدین شریک تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کی ایسی کئی مثبت سرگرمیاں اور عوام دوست منصوبے ہیں جو بدقسمتی سے قومی ذرائع ابلاغ کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں جن میں محترمہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام، پیپلز ٹرین سروس، پیپلز ایئر ایمبولینس جیسے منصوبے شامل ہیں، تاہم قومی میڈیا میں ان اقدامات کی وہ پذیرائی نہیں ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے انہوں نے میڈیا ہاؤسز کی کمرشل نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان چونکہ محدود آبادی اور کم اشتہاری ریونیو والا صوبہ ہے، اس لیے بعض بڑے ادارے اسے وہ اہمیت نہیں دے پاتے جو باقی صوبوں کو حاصل ہے۔ ’’یہ ایک افسوسناک پہلو ہے کہ صرف کمرشل بنیادوں پر خبری ترجیحات طے کی جائیں، جبکہ بلوچستان جیسے حساس اور پسماندہ خطے کو نظرانداز کر دیا جائے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ صحافیوں کو کھلے دل سے بلوچستان کے دورے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں جا کر وہاں کی حقیقتوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں خود آپ کے ساتھ بلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو وہ مثبت تبدیلی دکھا سکوں جو حالیہ عرصے میں وہاں آئی ہے۔ ساتھ ہی ہم ان چیلنجز سے بھی آپ کو آگاہ کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ انہوں نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صحافیوں کے دیرینہ مطالبے پر پہلی بار میڈیا ہاؤسنگ اسکیم کے لیے زمین فراہم کی ہے، اور آئندہ مرحلے میں آسان اقساط پر گھروں کی تعمیر کا عمل شروع کیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں اگر کسی صحافی کو معمولی سا بھی نقصان پہنچے تو وہ سب سے پہلے اس کی دلجوئی اور مدد کے لیے پہنچتے ہیں ہم نے ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ ایک بااعتماد ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھا ہے اور ان کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس تقریب کا اہتمام کر کے ملک بھر سے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے تعاون کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت جلد بلوچستان کی مثبت جھلک قومی میڈیا میں نمایاں انداز سے سامنے لائی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت اور ملک بھر کے صحافیوں کو کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی اصل کہانی آپ جیسے باشعور صحافیوں کے ذریعے ہی قومی منظرنامے تک پہنچ سکتی ہے ہمیں امید ہے کہ 75 سالہ جدوجہد کا یہ سفر بلوچستان کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں بھی ایک نیا باب رقم کرے گا

You might also like

Comments are closed.