سوئے رہ گئے
مشرقی بیت المقدس عملاً تو پہلے ہی اسرائیل کے پاس ہے۔ اس کی فوج کے قبضے میں ہے جو جب چاہے مسجد اقصیٰ میں گھس جاتی ہے، نمازیوں سے مار دھاڑ کرتی ہے، انہیں باہر نکال دیتی ہے یا ان کا داخلہ روک دیتی ہے۔ جب چاہے گولی بھی چلا دیتی ہے اور جب چاہے دنگے فساد کیلئے یہودی ’’عبادت گزاروں‘‘ کو مسجد میں گھسا دیتی ہے لیکن کاغذات کی حد تک، نام نہاد اوسلو معاہدے کے تحت مشرقی حصہ اس مقدس شہر کا فلسطینی ریاست کا حصہ ہے لیکن اب یہ کاغذی ملکیت ختم کرنے کا اعلان بھی ہو گیا۔ اسرائیلی کابینہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت نے مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اب شہر کے اس حصے میں یہودی آباد کاروں کو ، فی الحال، 3401 مکانات بنا کر دئیے جائیں گے۔
چلئے، یہ قضیہ بھی ختم ہوا۔ ٹرمپ جس ’’دو مملکتی نظرئیے‘‘ کی بات کر رہے ہیں، وہ کہاں بنے گی؟ اب تو اس کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔
دو قومیتی حل کا مطلب ہے ایک ریاست اسرائیل کی ، دوسری فلسطین کی۔ یہ دوسری غزہ اور مغربی کنارے پر مشتمل ہونا تھی۔ غزہ پر قبضے کا فیصلہ بھی اسرائیل کر چکا اور اعلان بھی اور امریکی صدر ٹرمپ اس کی حمایت بھی کر چکے۔ رہا مغربی کنارہ تو اوسلو معاہدے کے تحت یہ سارے کا سارا فلسطینی ریاست کا حصہ بننا ہے لیکن ہوا تو یہ کہ اوسلو معاہدے کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کا 50 فیصد سے زیادہ رقبہ اسرائیل ہڑپ کر چکا۔ باقی جو آدھے سے کم بچا ہے، تازہ حکم اسرائیل کی طرف سے یہ صادر ہوا ہے کہ اس میں یہودی گھر بنا لیں گے تو مغربی کنارے والے فلسطینی کہاں جائیں گے۔
شاید وہیں جائیں گے جہاں غزہ والوں کو بھیجا جائے گا۔ اسرائیل نے کل ہی اعلان کیا کہ انڈونیشیا، جنوبی سوڈان وغیرہ چار ملک طے کر لئے ہیں، غزہ والوں کو وہاں بھیجا جائے گا۔
وہاں بھیجا جائے گا لیکن ابھی نہیں ، یہ اعلان بھی کل ہی آیا کہ غزہ کی جنگ مزید ایک سال جاری رہے گی۔ ایک سال کے بعد جتنے بھی بچ جائیں گے، ان ملکوں میں بھیج دئیے جائیں گے۔ تب تک کتنے بچیں گے، اس کا پتہ تو اگلے سال، جنگ ختم ہونے کے بعد چلے گا۔
اور دیکھئے، اس پر غور کیجئے کہ اسرائیل کہہ رہا ہے کہ اگلے سال جنگ ختم ہو جائے گی۔ نسل کشی، نسلی صفائی کو کس صفائی سے اسرائیل نے ’’جنگ‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ جنگ ایسی ہوتی ہے؟
______
قرآن مجید میں ہے، ایک بستی پر عذاب کے بادل آ گئے، بستی والوں نے سمجھا ساون کے بادل آ گئے، خوب خوش ہوئے۔
کالے بادل آئے ہیں
مل کر مینہ برسائیں گے
ہم ناچیں گے، گائیں گے
مل کر خوب نہائیں گے
یہ قیوم نظر کے شعر میں نے بیچ میں ڈال دئیے۔ قرآن میں پھر بتایا گیا کہ یہ عذاب کے بادل تھے انہوں نے بستی برباد کر دی۔
خدا نہ کرے کسی پر بھی عذاب آئے لیکن امریکہ جس طرح ہمارے لاڈ کر رہا ہے، یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ کراری نظر آنے والی دال میں کچھ بہت کڑوا اور کالا ہے۔ امریکہ لاڈیاں کرے گا، ٹافی دے گا، حلوہ پوری بھی کھلائے گا، پھر ہم سے منرلز اپنے دام پر لے گا اور کہے گا چین سے قربت کم کرو، سی پیک کے خواب دیکھنا بند کرو۔
ہم نہیں مانیں گے تو وہ بھارت کو اپنے کیمپ میں لا کر اسے تھپکی دے گا۔ ابھی وہ ہمیں خوش کر کے بھارت کو تپا رہا ہے۔ دل نہیں مانتا کہ امریکہ بھارت کے بغیر رہ پائے گا۔
دعا ہے کہ یہ خدشہ غلط ہو۔ حکومت خوشی کے بہت شادیانے بجا رہی ہے، لیکن ایک آنکھ امریکی پینتروں کی طرف تھوڑی سی کھلی رہے تو کیا ہرج ہے۔
______
جشن آزادی یوں منایا گیا کہ ہوائی فائرنگ سے کئی لوگ جاں بحق ہو گئے، ایک بچی بھی ماری گئی۔
ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ہم دنیا کے وہ لوگ ہیں جو خوشی منانے کیلئے بھی دوسروں کی جان لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ شادی بیاہ پر دو چار لوگ مارنا تو ویسے ہی معمول ہے۔ بعض اوقات تو شادی بیاہ کی خوشی اتنے زوروں میں ہوتی ہے کہ دولہا یا دلہن ہی کو مار دیا جاتا ہے اور اگر وہ بچ نکلیں تو یہ طربیہ ہوائی فائرنگ دلہا یا دلہن کے کسی عزیز کی جان تو ضرور ہی لے لیتی ہے۔
حکومت نے قانون بنا رکھا ہے کہ شادی بیاہ پر ہوائی فائرنگ جرم ہے لیکن اس جرم کیخلاف قانون حرکت میں آیا ہو، ایسا کبھی سنا نہیں۔ قانون نہ ہوا، اوسلو معاہدہ ہو گیا۔
______
بہرحال جشن آزادی ہر شہر قصبے گلی محلے میں منایا گیا۔ سڑکوں پر لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ نکلے۔ یہ سب لوگ جشن آزادی منا رہے تھے۔ اس بار زیادہ جوش و خروش کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ جنگ چہار روزہ میں بھارت کی پٹائی اور پاک فوج کی سرافرازی تھی۔
شاید جشن آزادی کے لیئے حقیقی آزادی والوں نے بھی نکلنا تھا، وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ شاید سوئے رہ گئے: یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا۔
______
یوم آزادی پر اچھی کارکردگی کیلئے بہت سے تمغے بانٹے گئے، اسی روز یہ خبربھی آئی کہ مزید 2 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے آرڈر جاری کر دئیے گئے ہیں یہ خبر پڑھ کر صدمہ ہوا۔
صدمہ یہ ہوا کہ غیر مستحقین کو تو ایوارڈ مل گئے، جن لائق فائق لوگوں نے حقیقی خدمت کے جذبے کے تحت پہلے چینی برآمد پھر درآمد کی، ان کیلئے ایک بھی تمغہ نہیں، حد ہو گئی۔