10مئی 2025 میں پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کے بعد بھارت کی ذلت اور رسوائی کا سفر اب ایک تیز رفتار طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے نریندر مودی جس طریقے سے اپنے ملک کو مسائل میں الجھا چکا ہے اس سے یہی امید ہے کہ انے والے دنوں میں شاید یہ طوفان مودی حکومت کو بھی بہا کر لے جائے۔ نریندر مودی کی غاصبانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کے لیے اتنے زیادہ محاذ کھل چکے ہیں کہ ایک کے بعد ایک اپنی بھرپور طاقت سے سامنے آ رہا ہے اس حوالے سے تازہ واقعہ 17 اگست 2025 کو سکھ فار جسٹس کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم کے اگلے مرحلے کا انعقاد ہے اس ریفرنڈم میں سکھ برادری بھارت سے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے گی،تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھارت نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے بین الاقوامی دبا، قتل، جاسوسی اور غلط معلومات پھیلانے جیسے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا ۔ لیکن عالمی ردعمل نے بھارت کی مکروہ چالوں کو بے نقاب کیا ہے جو انصاف اور خودمختاری کا مطالبہ کرنے والے سکھوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ریفرنڈم میں ہزاروں سکھوں کی شرکت متوقع ہے یہ واضح پیغام ہے کہ بھارت کی تارکین وطن کی سرگرمیوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ بھارت کی سکھوں کی آزادی کی تحریک کو روکنے کے لیے اپنی انٹیلیجنس ایجنسی را کو استعمال کیا جس نے کینیڈا میں سکھ لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں جون 2023 میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے خالصتان ریفرنڈم لیڈر ہردیپ سنگھ ننجڑ کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے “قابل اعتبار شواہد” کا اعلان کیا ، جس سے کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اور بعد میں کینیڈا میں سکھ ایمبیسی کا قیا م عمل میں لایا گیا جس نے تحریکِ آزادی کو نئی توانائی، عالمی حمایت اور سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل ہوگی ۔بھارت کی سرگرمیاں صرف کینیڈا تک محدود نہیں رہی نہیں رہی اس کے بعد ان کا اگلا ٹارگٹ امریکہ میں سکھ قیادت تھی اس ناکام واردات کے بعد امریکی عدالت نے بھارت سے منسلک جاسوس نکھل گپتا اور RAW افسر وکاس یادو پر سکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنون کے قتل کی ناکام سازش کا مقدمہ درج کیا یہ بھارت کی تشدد کے ذریعے سکھ قیاد ت کو خاموش کرنے کے کچھ ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر سکھوں کی آواز کو خاموش کرانے کی بھارتی کوشش بھی ناکام ہوئیںبھارتی دبا کے باوجود، گوگل، یوٹیوب اور ایکس (ٹوئٹر )جیسے پلیٹ فارمز نے خالصتان ریفرنڈم کی مواد پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا 2021 سے اب تک، خالصتان ریفرنڈم برطانیہ، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ میں آٹھ ریفرنڈم ہو چکے ہیں۔یہ بین الاقوامی قانون یو این چارٹر اور ICCPR کے آرٹیکل 1) اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1 عوام کو خودمختاری کا حق دیتا ہیسکھ گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم اسی قانونی دائرے میں آتے ہیں، نہ کہ “دہشت گردی”۔ بھارت کے “انتہا پسند” کے لیبل کے باوجود، کسی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے ریفرنڈم کو غیر قانونی نہیں ٹھہرایا بلکہ جمہوری ممالک نے اسے سیاسی اظہار کی آزادی قرار دیا ہے۔ سکھ رہنماؤں کا عزم جمہوری اور پرامن ہے ووٹ کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل کرنا۔ بھارت کی جبر کی پالیسیاں عالمی سطح پر ناکام ہو رہی ہیں۔ بھارت میں اس وقت جس تیزی سے علیحدگی پسند تنظیموں نے سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں خالصتان کا حالیہ ریفرنڈم ان کو نئی امید اور جذبہ دے گا بھارت اور اس کی عوام کے لیے اس میں کھلا پیغام ہے جب تک بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ نظام کی وجہ سے کشمیر کے بے گناہ مسلمانوں اور ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں بمشمول مسلمان ,سکھ اور عیسائی ظلم و ستم کا سامنا کرتے رہیں گے اس وقت تک بھارت کے لیے عالمی اور اندرونی مسائل بڑھتے رہیں گے بھارت پر اب یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ 78 سال سے زائد جاری ظلم و جبر کا کھیل اب اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں آج اس بات پر متفق ہو چکی ہیں کہ ظلم اور جبر کے نظام کو مزید نہیں چلنے دیں گے سکھوں کا حالیہ ریفرنڈم اس کا واضح ثبوت ہے !!