کم عمری اور جبری شادیوں کے خاتمے کے حوالے سے بلوچستان کے دو اضلاع نصیر آباد اور جعفر آباد میں مقامی شادی ہال میں ایک تقریب منعقد کی گئی

نصیرآباد11اگست ۔کم عمری اور جبری شادیوں کے خاتمے کے حوالے سے بلوچستان کے دو اضلاع نصیر آباد اور جعفر آباد میں ادارہ استحکام شرکتی ترقی (ایس پی او) ، سیو دی چلڈرن، اور یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کے تعاون سے مقامی شادی ہال میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان ایس ایس پی نصیر آباد غلام سرور بھیﺅ ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی ڈی ایس ایم فیصل اقبال کھوسہ ہندو پنچایتی رہنماء تارا چند خادم حسین اوربابو عبدالصمد کھوسہ سمیت کثیر تعداد میں خواتین بچیاں اور مختلف کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے تقریب ایس پی او کے منیجر جمیل اصغر بھٹی ایس پی او چائلڈ اسپیشلسٹ آفرین کنول۔ بی آئی ایس ڈی سے فدا حسین مگسی سحر آرٹس کے محمد اکرم عمرانی نیڈز بلوچستان کے عبدالکریم مینگل مہر فاﺅنڈیشن کے سیف الرحمان مہر کی نگرانی میں منعقد ہوئی تقریب کے موقع پر بچوں نے ٹیبلوز بھی پیش کئے مقررین نے کم عمری میں بچیوں کی شادی کے حوالے سے تفصیل سے خطاب کیا کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان ایس ایس پی نصیر آباد غلام سرور بھئیو نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں چائلڈ ایکٹ کے تمام قوانین پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے کم عمری میں بچیوں کی شادی کروانے کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں اس سے نہ صرف کم عمر بچی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے پیدا ہونے والے بچے بھی کمزوری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ماں کی زندگی بھی خطرناک لمحات سے دوچار رہتی ہے ہمیں اپنے معاشرے کی روایتی رسومات میں سدھار لانا ہونا کیونکہ ان رسومات کی دین اسلام میں بھی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کم عمری میں بچیوں کی شادی کروانا ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لیے تمام کمیونٹی کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بچیوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

You might also like

Comments are closed.