گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سربراہ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے واٹر و چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی، نور الحق بلوچ نے کی

گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل پر گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد، آج گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سربراہ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے واٹر و چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی، نور الحق بلوچ نے کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، ڈپٹی کمشنر گوادر حمودالرحمن، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ایکسیئن محکمہ پبلک ہیلتھ مومن علی، ایکسیئن کیسکو حسین بخش، ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر پروجیکٹ محمد اکبر بلوچ، جی ڈی اے واٹر پروجیکٹ کے قمبر بلوچ، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ داد کریم اور دیگر حکام شریک ہوئے، جبکہ اسلام آباد سے وزارت منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات کے سینیئر چیف وقاص انور نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ گوادر میں پانی کے بحران کی بنیادی وجہ بجلی کی کمی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وزیراعظم نے گزشتہ روز وزارت توانائی کو واضح ہدایات جاری کی ہیں، جن پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ ہنگامی طور پر کیسکو کو ہدایت کی گئی کہ سوڈ ڈیم فیڈر، جی پی اے ڈیسالینیشن پلانٹ، ایئرپورٹ پمپنگ اسٹیشن سمیت تمام پمپنگ اسٹیشنز اور پلانٹس کے لیے درکار تقریباً 6 میگاواٹ بجلی کی فوری بلا تعطل فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے، تاکہ پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔مقامی سطح پر بحران پر قابو پانے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ جی ڈی اے کی جانب سے بچھائی گئی نئی پانی کی لائن کے ذریعے فراہمی کا آغاز ملا بند سے کیا جائے گا۔ یہاں نئے گھریلو کنکشن نصب کیے جا رہے ہیں اور پانی گوادر پورٹ کے واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ سے فراہم کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ سوڈ ڈیم سے ایئرپورٹ واٹر اسٹیشن تک مین ٹرانسمیشن لائن میں میٹر نصب کیے جائیں گے، تاکہ پانی کی طلب و رسد کو باضابطہ مانیٹر کیا جا سکے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ رات بجلی کے شدید وولٹیج اتار چڑھاؤ (فلکچویشن) کے باعث گوادر کو مین سپلائی فراہم کرنے والی پائپ لائن متاثر ہوئی، جس کی مرمت کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ آج شام تک مکمل کر کے پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔بعد ازاں، کوآرڈینیشن کمیٹی نے ملا بند اور ملحقہ علاقوں کے کونسلرز سے ملاقات کر کے ہاؤس کنکشنز کی تنصیب کے حوالے سے مشاورت کی، تاکہ عوامی شمولیت سے اس منصوبے کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔

You might also like

Comments are closed.