ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ کی قیادت میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے سرکٹ ہاوس گنداواہ میں سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا

جھل مگسی 05اگست:۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ کی قیادت میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے سرکٹ ہاوس گنداواہ میں سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار و ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) عبدالغفور جمالی، اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ عبدالمجید محمد حسنی، ایس پی جھل مگسی سبحان علی مگسی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جھل مگسی عبدالرسول کھوسہ، ایکسیئن بلڈنگز ظفر اقبال ابڑو، ایس ڈی او ایریگیشن فرخ شہزاد کھوکھر۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک ڈاکٹر فرحت اللہ حبیب ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھل مگسی ڈاکٹر علی خان مگسی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی گنداواہ ذوالفقار علی لاشاری، ایم سی چیئرمین مشتاق ترین، لیویز فورس جھل مگسی کے آفیسران و اہلکار، سول سوسائٹی ، ہندو کمیونٹی، گنداواہ کے صحافی حضرات، اساتذہ کرام اور طلباءکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاذ تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اسکولوں کے طلباءنے یوم استحصال کشمیر و بھارتی بربریت پر تقاریر و نغمے پیش کئے آخر میں ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّہ نے نہایت ہی مفصل و مدلل انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست 2019 کے بعد جموں کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے بھارت کا یہ رویہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بھارت بین الاقوامی اداروں کو کشمیر میں جانے کی اجازت دے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے کھرے ہو کر سامنے آئیں کشمیریوں کے حقوق ختم کرنا بھارت کی خام خیالی ہے بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کا یہ ڈھونگ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد فوج بھارتی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے چھ سال قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے کشمیریوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر بھارت ایوان میں کشمیری عوام کے حقوق پر قدغن ڈالی گئی انھوں نے کہا کہ آج پاکستانی قوم اپنے مظلوم نہتے بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یوم استحصال منا رہی ہے اس دن کو منانے کا مقصد پوری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کبھی بھی اپنے بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گا آخر میں ریلی بھی نکالی گئی طلباءو دیگر شرکاء نے پلے کارڈز و بینرز اٹھا رکھے تھے شرکاءکی جانب سے کشمیر کی خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے جارہے تھے۔

You might also like

Comments are closed.