سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی میں کشمیر (یوم استحصال) کی مناسبت سے ریلی کا انعقاد کیا گیا

کوئٹہ 05اگست:۔سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی میں کشمیر (یوم استحصال) کی مناسبت سے ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے کی ریلی میں رجسٹرار ڈاکٹر زینب اکرم ? ڈائریکٹر اوریک ڈاکٹر راحیلہ منظور وفیکلٹی ممبران لیکچرارز اور ایڈمن اسٹاف شامل تھے ریلی یونیورسٹی کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی شہداءچوک پر اختتام پذیر ہوئی ریلی سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے تاریخی پس منظراور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ پر روشنی ڈالی کہ کیسے کشمیر کی آزاد رریاست کو محکوم بنایا گیا عصر حاضر کے تناظرمیں انہوں نے بتایاکہ غیر کشمیری باشندوں کوکشمیر میں آباد کرنے اور شہری حقوق دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں مزید یہ کہ کشمیریوں کو مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے اور آزادی کے حصول میں پاکستانی ان کے ساتھ ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیر جو کبھی جنت نظیر کہلاتا تھا آج ظلم و ستم کی ایک خاموش گواہی بن چکا ہے بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کے عوام پر کئے جانے والے مظالم نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی داستان رقم کی ہے مزید براں پانچ اگست 2019ءکو آرٹیکل 370کا خاتمہ کشمیریوں کی شناخت پر ایک وار تھا اس اقدام نے نہ صرف کشمیریوں کی خود مختیاری چھین لی بلکہ ان کی زمینوں اور روزگار پر بھی خطرہ منڈلانے لگا اس استحصال کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد ان کا حاصلہ اور ان کی مزاحمت ہمیں یادد دلاتی ہے ۔کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور ہو سچائی کی روشنی کبھی دبائی نہیں جاسکتی ہمیں چاہیے کہ ہم بطور انسان کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی آواز بنیں اور عالمی برادری پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے انہوں نے اس غم کا اظہار کرتے کہ بدقسمتی سے عالمی طاقتیں تجارتی مفادات کے تحت اس ظلم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں مگر بطور پاکستانی ہمیں ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرنی چاہیے۔

You might also like

Comments are closed.