زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے. آپ کو دی گئی ٹریننگ ضرور آپ کی زندگی سنوارنے میں مدد دیگی. آج کی اس اہم تقریب کے منتظمین وہ ذہین طلباء و طالبات ہیں جو نہ صرف اپنے ذہنوں کو جدید علم و فلسفہ کی روشنی سے منور کرتے ہیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل

کوئٹہ یکم اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے. آپ کو دی گئی ٹریننگ ضرور آپ کی زندگی سنوارنے میں مدد دیگی. آج کی اس اہم تقریب کے منتظمین وہ ذہین طلباء و طالبات ہیں جو نہ صرف اپنے ذہنوں کو جدید علم و فلسفہ کی روشنی سے منور کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں دیگر لوگوں کی ذہنی سطح بلند کرنے، تنقیدی شعور کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کے طرز پر اپنے صوبے میں نئے ماڈلز تیار کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں. یہ بات یقین کے ساتھ کہ کی جا سکتی ہے کہ آپ ہی کا بنانے والا فورم بمن کے اٹھاتے گئے اقدامات اور جاری کوششوں سے صوبائی سطح پر پالیسیاں تشکیل دینے میں بھی مدد اور فکری رہنمائی ملے گی. ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں “بلوچستان ماڈل یونائٹیڈ نیشز ” کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ااس موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور صوبائی سیکرٹری ہاشم خان غلزئی سمیت صوبے بھر سے نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی. اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دنیا بہت تیزی سے اپنی کروٹیں بدل رہی ہے. یاد رکھنا جب وقت بدلتا ہے تو وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں. جدید تقاضوں اور انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ہمیں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ اور اپ گریڈ کرنا ہوگا. چیزوں کو روایتی طریقوں سے دیکھنے کی بجائے سائنٹفک انداز میں پرکھنے اور جانچنے ہونگے کیونکہ بلوچستان کے پیچیدہ مسائل کا پائیدار حل ہم سے سنجیدہ مشترکہ فیصلوں کا متقاضی ہے. درپیش تمام چیلنجز کا باریک بینی سے جائزہ لیکر ہی یہاں کے عوام کو مجموعی طور پر متاثر کرنے والے گہرے معاشی و سیاسی معاملات کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھائے جاسکتے ہیں. ذہن نشین عوامی رائے سازی ہو یا تنظیم سازی اور پالیسی سازی یا فیصلہ سازی، ان سب میں اپنے نوجوانوں کی آواز کو بڑھانا آولین شرط ہے. گورنر مندوخیل نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبے میں کریٹکل گروپ ڈسکشن اور سیاسی و علمی تھینک ٹینک کی غیرموجودگی اور ریسرچ سینٹرز کے فقدان کی وجہ سے ہم اپنے انٹلیکچولز اینڈ ریسرچرز کے علم و تجربہ سے استفادہ نہ کر سکے. ہمارے پاس وافر مقدار میں بنیادی وسائل، مواقع اور ضروری سہولیات دستیاب ہیں جن کو بروئے کار لا کر ہم بآسانی اپنے صوبے کو شدید غربت اور بیروزگاری سے فوری طور پر نکال سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی یافتہ اور پسماندہ اقوام کے فرق کو واضح کرنے کیلئے ان کے ہاں ڈائیلاگ کے رحجان اور پولیٹکل ڈسکورس کے تناظر میں بھی پرکھا اور سمجھا جا سکتا ہے. تہذیب یافتہ اقوام ڈائیلاگ، معاملہ فہمی، تنازع کا پرامن حل نکالنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی شاندار اقدار و روایات کے آمین ہیں. فکری و سیاسی اختلاف اور نئے حقائق کی تلاش کو تخلیقی و تعمیری طرز فکر کا درجہ دیا جاتا ہے. سیاسی فورمز اور علمی مراکز میں ٹھوس شواہد کے ساتھ مقدمہ پیش کیا جاتا ہے اور دلیل کے مقابلے نیا دلیل قائم کرنے کرنے کیلئے درست استدلال پیش کرنے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے. گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کو ختم کرنے کیلئے قومی سطح پر مکالمے اور مباحثے کے ذریعے بہتر حل نکالا جا سکتا ہے. نئی نسل کو مذہبی انتہا پسندی سے بچانے کی خاطر ڈائیلاگ اور بحث مباحثوں میں پورے سماج کی شراکت بہت ضروری ہے. کیونکہ آج انٹرنیٹ آپ کو علم اور معلومات تو دے سکتا ہے لیکن یہ آپ کو تخلیقی صلاحیت نہیں دے سکتا۔ تخلیق انسان کی ذات سے نکلتی ہے اور یہی خوبی انسان کو دوسروں سے مختلف بناتی ہے. اختتامی تقریب کے آخر میں گورنر بلوچستان نے مہمانان گرامی اور بلوچستان ماڈل یونائٹیڈ نیشز کے عہدیداران میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے.

You might also like

Comments are closed.